نئی دہلی، 21 مئی(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا) دہلی حکومت کے برخاست وزیر کپل مشرا کے وزیر اعلی اروند کجریوال پر لگائے گئے بدعنوانی کے الزامات کے پس منظر میں شرومنی اکالی دل کے قومی ترجمان اور دہلی اسمبلی کے رکن منجدر سنگھ سرسا نے دعوی کیا کہ رشوت اور حوالہ کی بات سامنے آنے کے بعد اب کجریوال کے سامنے استعفی کے علاوہ کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ہے۔سرسا نے کہا کہ کجریوال صاحب پہلے دوسروں پر الزام لگاتے تھے اور استعفی مانگتے تھے لیکن آج جب ان کے خلاف اتنے سنگین الزام لگ رہے ہیں تو وہ کچھ بول نہیں رہے ہیں۔ میڈیا، عوام اور اپوزیشن کا سامنا نہیں کر پا رہے ہیں۔ رشوت اور حوالہ کے جومعاملے سامنے آئے ہیں، اس کو دیکھتے ہوئے اب کجریوال کے سامنے استعفی دینے کے سوائے کوئی دوسرا آپشن نہیں بچا ہے۔
غور طلب ہے کہ دہلی حکومت کے وزیر کے عہدے سے ہٹائے گئے کپل مشرا نے حالیہ دنوں میں کجریوال کے خلاف بدعنوانی کے کئی الزامات عائد کئے ہیں۔ انہوں نے کجریوال پر وزیر ستیندر جین سے دو کروڑ روپے لینے اور حوالہ سے تعلق ہونے جیسے الزامات لگائے ہیں۔کیجریوال نے ان الزامات پر اب تک کوئی عوامی اور براہ راست بیان نہیں دیا ہے، لیکن عام آدمی پارٹی اور ان کی کابینہ کے ساتھیوں نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اسے بی جے پی کی سازش قرار دیا ہے۔
سرسا نے کہا کہ خود کجریوال کہتے تھے کہ سیاست میں آنے کے بعد کہیں ہم لوگ بدعنوان نہیں ہو جائیں، آج انہی کی بات صحیح ثابت ہوئی ہے، نئی سیاست کا دعوی کرنے والی یہ پارٹی اب بے نقاب ہو چکی ہے، اب اس کا خاتمہ طے ہے۔ای وی ایم کے ساتھ چھیڑ چھاڑ سے متعلق آپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے سرسا نے کہا کہ یہ صرف شکست کا بہانہ ہے۔ پنجاب، راجوری گارڈن اور ایم سی ڈی انتخابات میں کجریوال کی پارٹی ہار گئی تو اب ای وی ایم پر الزام لگایا جا رہا ہے۔ ان کی باتوں پر کسی کو اعتماد نہیں ہے۔